View Single Post
Old 10-25-2017, 10:16 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,571
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Latest Technology handicap

معذور افراد کے لیے جدید ٹیکنالوجی


ہاتھوں کی کپکپاہٹ جذب کرنے والا چمچ

ہاتھوں میں رعشہ ایک عام مرض ہے۔ اس میں مبتلا افراد کے ہاتھ کانپتے رہتے ہیں۔ خاص کر بڑھاپے میں یہ مرض انتہائی عام ہے۔ اس کی وجہ سے کھانا کھانے میں انتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہاتھ انتہائی تیزی سے کانپ رہے ہوتے ہیں اس لیے کھانا گرتا رہتا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چمچوں کا ایک سیٹ لفٹ ویئر (Liftware) کے نام سے موجود ہے. اس سیٹ میں ایک عام چمچ، ایک سوپ چمچ اور ایک کانٹا موجود ہوتا ہے۔
اس میں موجود چمچ کوئی عام چمچ نہیں ہوتے بلکہ انہیں ایک خاص تکنیک سے تیار کیا گیا ہے جو ہاتھوں کی 70 فیصد کپکپاہٹ کو جذب کر لیتے ہیں۔ اس طرح کانپتے ہاتھوں کے باوجود کھانا کھانے میں مسئلہ نہیں ہوتا۔
لفٹ ویئر میں اسٹیبلائز ر ہینڈل موجود ہوتا ہے جس کے آگے ضرورت کے تحت چمچ یا کانٹا لگایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ایک اسٹیبلائزر تینوں کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ اس ہینڈل کا چارجر بھی ساتھ دیا جاتا ہے۔

بینائی سے محروم افراد کی آنکھیں بنیں

بی مائی آئیز (Be My Eyes) ایپلی کیشن ایک اچھوتا تصور ہے۔ یہ ایپلی کیشن ابتدا میں صرف آئی او ایس پلیٹ فارم کے لیے دستیاب تھی تاہم اب یہ اینڈرائیڈ کے لیے بھی فراہم کردی گئی ہے۔ اسے صرف بینائی سے متاثر افراد ہی نہیں بلکہ تندرست افراد بھی انسٹال کرتے ہیں۔ کم دکھائی دینے والے یا نابینا افراد کو اگر کسی سلسلے میں مدد درکار ہو اور کوئی ان کے آس پاس نہ ہو تو وہ اس ایپلی کیشن کے ذریعے وڈیو بنا سکتے ہیں۔ یہ ایپلی کیشن فوراً اس وڈیوکو اپنے نیٹ ورک پر بھیج دیتی ہے جہاں اس کے لاکھوں ممبرز میں سے کوئی نہ کوئی آن لائن موجود فرد اپنی رائے بھیج دیتا ہے۔ مثلاً کوئی دوا کھانے سے پہلے نابینا فرد کو تصدیق کرنی ہے کہ کہیں اس کی معیاد ختم تو نہیں ہو چکی تو وہ اس ایپلی کیشن کا سہارا لے سکتا ہے۔
کہنے کو تو کہا جا سکتا ہے کہ اتنا جھنجٹ کون کرے کہ نابینا کو اسمارٹ فون وہ بھی آئی فون فراہم کیا جائے جس پر انٹرنیٹ بھی چل رہا ہو، اس سے اچھا ہے وہ اپنے کسی قریبی فرد کو آواز دے کر بلا لے، لیکن ایسا کچھ کہنا یا اندازہ لگانا غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس ایپلی کیشن کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد نابینا افراد اسے استعمال کر رہے ہیں جبکہ انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے بھی کئی لاکھ تندرست افراد نے اس ایپلی کیشن کو انسٹال کیا ہے اور تقریباً لاکھوں ہی مسائل میں نابینا افراد کی فوری مدد کی۔
اگر آپ بھی اپنے فارغ وقت میں کسی کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو بی مائی آئیز ایپلی کیشن انسٹال کریں اور کسی کی آنکھیں بنیں۔ آپ جتنے لوگوں کی مدد کریں گے اس کے عوض آپ کو پوائنٹس دیے جائیں گے اور آپ مختلف لیولز پر پہنچ سکیں گے۔
Attached Images
 
journalist is offline   Reply With Quote