Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Urdu Planet > Urdu Adab

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 09-05-2013, 01:08 AM   #1
Cute Fairy
` ғarιнa
 
Cute Fairy's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Oct 2012
Location: ~♥~fαитαѕу~♥~
Posts: 32,106
Cute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond repute
Present Moulana Rumis biography



محمد جلال الدین رومی


پیدائش اور نام و نسب

محمد جلال الدین رومی مشہور فارسی شاعر تھے۔ اصل نام جلال الدین تھا لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے : محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سے حسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہے۔ کیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 604ھ میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم

ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤ الدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید برہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علماء میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا ۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

علم و فضل

مولانا رومی اپنے دور کے اکابر علماء میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے اور

اولاد

مولانا کے دو فرزند تھے ، علاؤ الدین محمد ، سلطان ولد ۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے ، خلف الرشید تھے ، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہوسکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصنیفات میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے ، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

سلسلہ باطنی

مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا ۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک ، شام ، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی ، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتہ کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

وفات

بقیہ زندگی وہیں گذار کر 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کرگئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔



مثنوی رومی

ان کی سب سے مشہور تصنیف مثنوی مولانا روم ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب فیہ مافیہ بھی ہے۔

باقی ایں گفتہ آیدبے زباں


درددل ہر کس کہ دارد نورجان

ترجمہ:"جس شخص کی جان میں نورہوگااس مثنوی کابقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائیگا"


اقبال اور رومی

علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں ۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں۔
آدمی دید است باقی پوست است
دید آں باشد کہ دید دوست است
جملہ تن را در گداز اندر بصر
در نظر رو در نظر رو در نظر

علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں


ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغہ بھی جاری کرے گا۔
مولانا رومی اور هم عصر معاشره



مولاناجلال الدین رومی کی شخصیت اور ان کا کالام دونوں هی کسی تعارف کے محتاج نهیں۔ چھبیس ھزار چھ سو چھیاسٹھ اشعار پر مبنی ان کی مشهور زمانه مثنوی تصوف اور عشق الهٰی کے جمله موضوعات کو انتهائ سادگی روحانی اور عام فهم انداز مین بیان کرتی ھے۔ عشق الهٰی اور معرفت کے انتهائ مشکل و پیچیده نکات سلجھانے کے لیے مولانا نے سبق آموز حکایات و قصے کهانیوں سے مدد لی ھے جو بھی لکھا ھے قرآن و حدیث نبوی سے اس کی سند بھی بیان کی جاتی هے اس لیۓ آج آٹھ سو سال گزر جانے کے باوجود ان کے کلام کی اهمیت و افادیت میں کوئ کمی واقع نهین ھوئ۔

مولانا جلال الدین رومی الملقب به مولوی معنوی سن باره سو سات میں بلخ میں پیدا ھوۓ۔ آپ کے والد بزرگوار بهاء الدین اپنے دور کے مشهور علماء مین شمار کیۓ جاتے تھے، حتی کے ان حلقهء درس میں حاکم وقت خوارزم شاه بھی شرکت کیا کرتے تھا۔ وحشی منگولوں کے حملوں کے منڈلاتے خطرات کے پیش نظر مولانا کے خاندان نے بلخ کو خیر باد کها اور پناه کی تلاش مین انا طویه کی راه لی، راستے میں نیشاپور میں رکے جهاں مشهور صوفی بزرگ عطار نیشا پوری سے ملاقات کی۔ عطا بڑے قیافه شناس تھے۔ جلال الدین رومی کو دیکھ کر سمجھ گۓ که آگے چل کر یه بچه عشق و معرفت کی دنیا میں دھوم مچا دے گا۔ چناں چه انهوں نے بهاء الدین کو ان کی تربیت پر خصوصی توجه دینے کی هدایت کی۔ حج کی سعادت حاصل کرتے هوۓ بهاء الدین اناطولیه پهنچے جهاں کے سلجوتی حاکم علاءالدین کیقباد نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔ قونیه میں بهاء الدین نے ایک مدرسے میں تدریس شروع کی اور بهت جلد مشهور ھوگۓ، ان کے انتقال کے بعد مولانا رومی نے والد کی گدی سنبھال لی۔ حلقهء درس میں شریک هونے والے حاکم وقت اور اعیان دولت ان سے بے انتها عقیدت رکھتے تھے۔

مولانا کی زندگی بڑے سکون سے گزررهی تھی، ایک دن گرمیوں کی صبح وه حوض کے پاس معمول کے مطابق درس دے رهے تھے، ایک خوانچه فروش حلوه بیچتا ھوا مدرسے کے احاطے میں آگیا۔ اپنے اطراف اور ماحول سے بے پرواه اور بے خبر اس جگه جا کر کھڑا ھواگیا جهاں مولانا تدریس میں مشغول تھے۔ خوانچه فروش نے تعجب سے پوچھا که یه سب کیا ھے، کیا ھورھا هے۔ مولانا نے بڑے تحمل سے کها یه تم نهین جانتے جاؤ، اپنا کام کرو۔ وه آگے بڑھا اور کتاب مولانا کے هاتھ سے لے کر اٹھا اور حوض میں پھینک دی۔ مولانا نے کها یه تم نے کیا کیا۔ میں نے تو کچھ بھی نهیں کیا۔ یه کهه کر اس نے حوض سے کتاب نکال کر رومی نے حیرت سے پوچھا، یه کیا ھے، اب باری اس کی تھی، یه تم نهیں جانتے یه که کر اس نے اپنا خوانچه اٹھایا اور اسی طرح صدا لگاتا ھوا باهر چلا گیا۔ یه حضرت شمس تبریز تھے۔ مولانا رومی، شمس تبریز کو اپنے ساتھ لے آۓ۔ انهوں نے علم کی انتھائ اعلیٰ منازل طے کررکھی تھین، اب عشق الهٰی و معرفت کے سفر کا آغاز کیا جس مین قدم قدم پر انهیں اپنے مرشد شمس تبریز کی راه نمائ حاصل تھی۔ مولانا رومی نے رفته رفته اپنا رابطه اپنے ماحول اور گردو پیش سے منقطع کرلیا۔ بس وه تھے اور شمس تبریز کی صحبت۔ یه صورت حال ان کے شاگردوں کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نه تھی۔ چنانچه شمس تبریز انکے نزدیک متنازع شخصیت بن گۓ، شاگردوں و عقیدت مندوں کے بدلتے هوۓ تیور دیکھ کر ایک رات اچانک حضرت شمس تبریز غائب ھوگۓ۔ بعض روایات کے مطابق انھیں شهید کردیا گیا۔

شمس تبریز کی جدائ مولانا رومی کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ اپنے مرشد کے فراق میں خود و ارفتگی کے عالم میں انهوں نے فی البدیهه شعر کهنا شروع کردیۓ۔ یوں عرفان و آگهی کی مضبوط ترین دستاویز مثنوی تخلیق ھوئ۔

اس مثنوی کے علاوه مولانا رومی کا دیوان کبیر، جو چالیس هزار اشعار پر مشتمل ھے، جس میں بائیس شعری مجموعے بشمول دیوان شمس تبریز عربی، ترکی اور یونانی زبانوں میں ان کا کلام۔ تصوف پر ایک کتاب فی مافیه، مجالس سبع اور مکتوبات، ایسی کتابیں هیں جو ان کے نام کو صوفیانه ادب میں همیشه روشن اور تابنده رکھیں گی۔

هر سال ستره دسمبر کو مولانا کا عرس [شب عروس] کے نام سے قونیه میں منعقد کیا جاتا ھے۔

اس سال یعنی سن دوهزار سات کو ان کی ولادت کی آٹھ سو ساله تقریبات کے طور پر منایا جارها ھے۔ مئ کے مهینے میں یونیسکو نے استنبول میں ایک شاندار کانفرنس کا اهتمام کیا تھا، پچھلے سال اسی مهینے میں تهران مین بھی ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ھوچکا ھے۔ قارئین مولانا سلوک کی اس منزل پر پهنچ چکے تھے که انهیں هر طرف الله هی کا جلوه نظر آتا تھا، جو قرآن کی آیت [الله نور السموات و الارض] کی گویا تفسیر ھے، وه حسن و زیبائ کے کائناتی، ملکاتی اور الهامی تصور کے علم بردار تھے۔ الله تعالی نے محبت رسول الله سے شیفتگی کے اس مرتبے پر پهنچ چکے تھے، جهاں ان کی اپنی هستی معدوم هوچکی تھی۔

مولانا رومی، امریکہ کے مقبول ترین شاعر
یونیورسٹی آف جارجیا کے پروفیسر کولمین بارکس نے رومی کی غزلیات اور رباعیات کو انگریزی میں 1995ء میں متعارف کروایا۔ ان کی کتاب The Essential Rumiکی اب تک پانچ لاکھ سے زائد جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ لیکن یہ داستان کچھ روز پیچھے چلتی ہے۔

کولمین بارکس کی کتاب پر راقم الحروف کے تبصرے کے سلسلے میں ایک ٹیلی فون انٹرویودیتے ہوئے اس نے بتایا کہ اسے رومی کے ترجمے کی ترغیب مشہور امریکی شاعر روبرٹ بلائی نے دی۔ بلائی ایک دن لندن سے انیسویں صدی کی مطبوعہ رومی کی غزلیات اور رباعیات کے انگریزی ترجمے کی ایک کِرم خوردہ جلد کولمین بارکس کے پاس لایا اور اسے کندھوں سے پکڑ کر کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا، میں جب تک اس کتاب سے شعر پڑھ کر تمہیں سناتا رہوں گا، تم کرسی سے اٹھوگے نہیں۔

ایک استفسار کے جواب میں کول مین بار کس نے کہا میں کیسے اٹھ سکتا تھا؟: جب تک رابرٹ مجھے پڑھ کر سناتا رہا میں نشے اور سرور کی سی حالت میں سُنتا رہا۔

ان نظموں کو ان کےپنجروں سے آزاد کردو۔ رابرٹ بلائی نے تحکمانہ لہجے میں بارکس سے کہا۔ 1975ء میں شائع کتاب اس کا نتیجہ تھی۔

اس کے بعد تو جیسے طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا۔ اب انٹرنیٹ پررومی سے متعلق پچاسوں ویب سائٹیں موجود ہیں۔ شائقین ایمیزان سے رومی کے بارے میں سینکڑوں کتب خرید سکتے ہیں رسالوںِ ، اخباروں ِ ، نیوز لیٹر اور فلائیرز سے رومی کے بارے میں نئی نئی باتیں دیکھنے کو ملتی ہیں، نائیجل واٹس Nigel Watts کی ایک ڈاکومینٹری The Way of Loveاسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
__________________


Cute Fairy is offline   Reply With Quote
Old 09-05-2013, 04:46 PM   #2
bint-e-masroor
Moderator
 
bint-e-masroor's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2012
Location: ●♥ღ язαmℓάи ღ♥●
Posts: 26,494
bint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond repute
Default Re: Moulana Rumis biography

nice sharing
__________________
bint-e-masroor is offline   Reply With Quote
Old 09-07-2013, 01:03 AM   #3
Cute Fairy
` ғarιнa
 
Cute Fairy's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Oct 2012
Location: ~♥~fαитαѕу~♥~
Posts: 32,106
Cute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond repute
Default Re: Moulana Rumis biography

thanks for liking
__________________


Cute Fairy is offline   Reply With Quote
Old 09-10-2013, 08:11 PM   #4
Black Pearl
Ŧђз ₤σяđ Ŏf άяк σμℓş
 
Black Pearl's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Aug 2010
Location: *~ άяк σμℓş ~*
Posts: 35,044
Black Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond reputeBlack Pearl has a reputation beyond repute
Default Re: Moulana Rumis biography

Thanks

Nice sharing

__________________



Black Pearl is offline   Reply With Quote
Old 09-14-2013, 07:21 PM   #5
Cute Fairy
` ғarιнa
 
Cute Fairy's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Oct 2012
Location: ~♥~fαитαѕу~♥~
Posts: 32,106
Cute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond repute
Default Re: Moulana Rumis biography

thanks
__________________


Cute Fairy is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
biography, moulana, rumis, rumi’s


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
John Keats's Biography Cute Fairy English Literature 4 10-16-2013 07:36 PM
John Keats's Biography Cute Fairy English Literature 2 09-07-2013 01:13 AM
William Stafford's Biography Cute Fairy English Literature 2 09-07-2013 01:13 AM
Ralph Hodgson's Biography Cute Fairy English Literature 2 09-07-2013 01:05 AM


All times are GMT +6. The time now is 12:37 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.