Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 04-21-2020, 08:54 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,740
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Maloomat

کورونا وائرس سے حفاظت اور اسلامی تعلیمات
اس وقت عالمی سطح پر کورونا وائرس کی دہشت ہے ،اس وائرس کا آغاز چین سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے ملکوں میں اس سے متاثرین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے۔پاکستان میں بھی اس وائرس سے متاثرین کی تعدادروز بروز بڑھ رہی ہے اور کئی اموات بھی ہوچکی ہیں ،اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ یہ ایک وبائی مرض ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ڈاکٹروں کی تحقیق یہ ہے کہ یہ بیماری متعدی ہوتی ہے اور اس کے کچھ علامات ہیں جس سے یہ بیماری دوسروں میں منتقل ہوسکتی ہے ۔

وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ،شریعت نے اس کی ہدایت دی ہے ، تاہم اس سے خوف اور دہشت میں آنے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ خوف و دہشت سے بڑاکوئی وائرس نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو اس میں بیماری میں مبتلا نہیں ہیں، لیکن خوف نے اس پر اس قدر دبیز چادر تان لی ہے کہ وہ کورونا سے زائد مہلک بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ بعض مرتبہ نفسیاتی خوف ایک مہلک بیماری بن جاتا ہے۔ اس لیے خوف و ہراس سے بڑا کوئی مہلک مرض نہیں ہے ۔

مسلمانوں کے پاس عقیدے کی اتنی مضبوط طاقت ہے جس کے ذریعے وہ اپنے پاس آنے والے خوف کو ختم کرسکتے ہیں ۔ ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے جس سے پہلے کسی کی موت نہیں ہوسکتی ہے اور اگر موت کا وقت آجائے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اسے بہت واضح اندازمیں بیان کیا ہے۔جب موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک لمحے کے لیے آگے پیچھے نہیں ہوتا ہے۔(سورۂ نحل ۶۱) ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کونقصان پہچانا چاہے توپوری دنیا مل کر اس کو نفع نہیں پہنچاسکتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کو نفع پہنچا نا چاہے تو پوری دنیا مل کر اسے نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے ۔

آپ ﷺ نے ہمیں یہ دعا سکھلائی ہے: اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ(صحیح البخاری ،حدیث نمبر ۸۴۴) اے اللہ ،جسے آپ کوئی نعمت دینا چاہیں تو کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک دیں تو کوئی اسے دے نہیں سکتا اورمال والوں کو اس کی مال داری نفع نہیں پہنچاتی ۔ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ بیماری دینے والی ذات اللہ کی ہے اور شفاء دینے والی ذات بھی اللہ کی ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ بیماری اور دواء کے درمیان ایک پردہ حائل ہوتا ہے، جب اللہ کاحکم شفاء کا ہوتا ہے تو وہ درمیانی پردہ زائل ہوجاتا ہے اور دوا کارگر ہوجاتی ہے اور مریض شفاء پاجاتا ہے ۔(مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الطب والرقی۷/۶۱۲۸)۔

شریعت نے ا حتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور ان احتیاطی تدابیر پر جس حد تک عمل ممکن ہو، کرنا چاہیے ، طاعون کے سلسلے میں اسلام کی ہدایت ہے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے : جس علاقے میں طاعون پھیلا ہو ،لوگ وہاں نہ جائیں اور وہاں کے لوگ وہاں سے نہ نکلیں، بلکہ صبر کرکے انہی علاقوں میں رہیں،اگر موت مقدر ہوگئی تو شہادت کی موت ہوگی، وہاں سے نکلنا موت سے فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے، جب کہ اگر کسی کی موت کا وقت آگیاہے تو وہ موت سے بھاگ نہیں سکتا ہے۔ (مسند احمد حدیث نمبر :۱۴۹۱)قرآن ِ کریم میں ارشاد ہے : تم جہاں کہیں بھی رہو، موت تمہیں آپکڑے گی ،اگر چہ تم مضبوط قلعوں میں بند ہوجائو ۔(سورۃ النساء ۷۷) دوسرے لوگوں کو وہاں جانے سے اس لیے منع کیا کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ، اور جہاں وبائی امراض پھیلے ہیں، وہاں جانا گویا کہ اپنے آپ کو ہلاکت کے قریب کرنا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وبائی امراض متعدی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے وبائی امراض کے پھیلے ہوئے علاقو ں میں جانے سے منع کیا گیا ۔ آج جو بہت سے ملکوں میںلاک ڈاؤن کیا گیا ہے کہ کوئی دوسرے ملکوں سے نہ آئے اور اس ملک کا کوئی باہر نہ جائے تو درحقیقت اسلام کا ہی نظریہ ہے جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے لوگوں کے سامنے وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے پیش کیا تھا، اگر حالات اس قدر خراب ہوجائیں اوروبائی امراض اس قدر پھیل جائے تو لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے، یہ اسلام کی تعلیمات کے عین موافق ہے ۔

وبائی امراض یا وائرس کا پھیلنا ایک قسم کا عذاب خداوندی ہے، اس سے نہ صرف لوگوں کی موتیں واقع ہورہی ہیں، بلکہ دنیا بالکل سمٹ سی گئی ہے ، سفر پر پابندی ہے، لوگ ادھر سے ادھر نہیں جا پارہے ہیں ، معیشت کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے ، چیزیں بہت سے علاقوں میں مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں، ظاہر ہے کہ یہ سب عام لوگوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے، اس لیے بحیثیت مسلمان ، ایک عالمی و آفاقی امت ہونے کے ہمیں آپ ﷺ نے جو تعلیمات دی ہیں، انہیں بروئے کار لاکر اس سے نجات پانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے ، آپ ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی کوئی مصیبت اور پریشانی آتی ، آندھی طوفان کی شکل میں ہو یا آفات و بلیات کی شکل میں آپ مسجد کی طرف جاتے اور مسجد میں حضرات صحابہؓ کو جمع کر تے ،نماز اور دعا کی تلقین فرماتے ،حضرات صحابہؓ کی زندگی میں بھی یہ چیز بہت اہمیت کے ساتھ ملتی ہے(سنن ابو داؤد حدیث نمبر :۱۱۹۶) اس لیے آج جب کہ پوری دنیا میں کورونا وائرس کی دہشت ہے، مسلمانوں کو نماز او ردعاؤں کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے کہ اس موقع پر جن خاص دعاؤں کا ا ہتمام کرنا چاہیے، ان میں چند یہ ہیں :

(۱) بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهٖ شَیْءٌ فِی الاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِوَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ (مسند احمد ،حدیث نمبر ۴۴۷) اس اللہ کے نام سے جس نے کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاسکتی ہے ۔حضرت عثما نؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ،جو شخص صبح میں یا شام میں تین مرتبہ یہ دعا پڑھ لے تو اس دن کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔ (۲)اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ اَللّٰهُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ(۳ مرتبہ)اے اللہ ! میرے جسم میں صحت و عافیت عطافرما، اے اللہ! میری قوتِ سماعت میں عافیت عطا فرما! اے اللہ! میری قوتِ بینائی میں عافیت عطا فرما!آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔(مسند احمد)

(۳) اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُنُوْنِ وَالْجُذَامِ وَمِنْ سَیِّیِئِ الْاَسْقَامِ۔(ترجمہ)اے اللہ، میں تجھ سے برص، جنون،جذام اور تمام بری بیماریوں سے پناہ مانگتا ہوں۔ (سنن ابی داؤد ،حدیث نمبر ۱۵۵۴) اے اللہ ہم آپ کی پناہ چاہتے ہیں ،برص سے جذام سے جنون سے اور بیماریوں سے ۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس دعا کا معمول تھا ۔

صدقہ و خیرات رب کے غضب اور بلاکو ٹالٹے ہیں ،اس لیے صدقہ و خیرات کا اہتمام کرناچاہیے ۔بیماری کے حملہ آور ہونے میں گندگی کو بہت دخل ہے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال کرنا بہت ضروری ہے ،عالمی ادارہ صحت کی طرف سے جو رپورٹ شائع کی گئی ہے، اس کے مطابق وائرس ایک شخص کے ہاتھ یا منہ کے ذریعے دوسرے شخص کے اندر منتقل ہوتا ہے، اس لیے اس موقع پر کثرت سے ہاتھ دھونا چاہیے اور پرہجوم جگہوں سے دور رہنا ،ماسک استعمال کرنا ،لوگوں سے مصافحہ کرنے سے وقتی تقاضے کے تحت رکناچاہیے ۔

البتہ عالمی طور پر جمعہ او رجماعت کا مسئلہ بھی پیدا ہورہا ہے ، بعض عرب ممالک میں مسجدمیں نماز بندکردی گئیں ہیں ، بعض جگہوں میں اذان میں ہی یہ ہدایت دی جاری ہے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں ، اگر چہ بعض روایت میں اذان کے اندر صلو فی بیوتکم پڑھنا سنن ابو داؤد کی روایت سے ثابت ہے۔جن علاقوں میں وائرس سے متاثر لوگ پائے جاتے ہیں، وہاں پر احتیاط کی شدید ضرورت ہے اور اس احتیاط کے تحت اگر مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے گھروں میں نماز پڑھنے کی بات کہی جائے تو کسی حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے ۔کیوں کہ بارش اور دیگراعذار کی بناء پر جمعہ کی نماز گھر میں پڑھنے کا حکم روایت میں صراحت کے ساتھ ہے۔ نماز کا سلسلہ منقطع نہ ہو، اس کے لیے جماعت کو مختصر کردیا جائے، کچھ لوگ مسجد میں جماعت سے نماز پڑھیں اور کچھ لوگ گھروںپر جماعت بنالیں ، جو لوگ اس وائرس سے متاثر ہیں ،انہیں مسجد نہیں آنا چاہیے ، انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنی چاہیے ،اس لیے کہ ان حضرات کا مسجد آنا دیگر لوگوں کی اذیت کا باعث ہے، بلکہ وائرس کے منتقل ہونے کی صورت میں دوسرے لوگوں کی تکلیف کا سبب ہے، اسے دیکھ کر دوسرے لوگ مسجد نہیں آئیں گے۔ جذامی سے جمعہ و جماعت ساقط اور معاف ہے، اس وجہ سے کہ وہ مسجد میں نہ آئے،پس جذامی کو چاہیے کہ وہ جماعت میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور جو لوگ جذامی شخص سے علیحدہ رہیں اوراحتراز کریں، اس پر کوئی ملامت نہیں ہے کہ جذامی سے بھاگنے اور بچنے کا حکم رسول ﷺ نے فرمایا ہے ۔ (رد المحتار ۲/۷۷۳)

حقیقت یہ ہےکہ کورونا وائرس یہ ایک عالمی وبا ہے ،اس کا تقاضا ہے کہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرکے اس عذاب سے نجات کی دعا کی جائے۔ارشادِ ربانی ہے: جس نے نافرمانی کے بعد توبہ کرلی اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو الله تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہو گا، وہ بخشنے والا مہران ہے۔ (سورۂ مائدہ) غور کریں تو ہم اگر اپنی پوری زندگی بھی رب کی رضا وخوشنودی کے حصول میں کھپادیں تو تب بھی اپنے رب کی عبادت اور اس کی لازوال نعمتوں کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
journalist is offline   Reply With Quote
Old 10-01-2020, 09:32 PM   #2
IQBAL HASSAN
 
IQBAL HASSAN's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Dec 2012
Location: G-9/2,Islamabad .....
Posts: 1,010
IQBAL HASSAN will become famous soon enoughIQBAL HASSAN will become famous soon enough
Default Re: Islami Maloomat


JAZZAK ALLAH KHAIR
__________________





یہ یقین ہمیں خود کو بہرحال دلانا ہوگ
ہم مسافر ہیں ہمیں یہاں سے جانا ہوگا
IQBAL HASSAN is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
islami, maloomat


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 07-31-2015 11:12 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 07-26-2015 11:42 AM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 07-24-2015 10:19 AM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 07-10-2015 11:01 AM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 06-12-2015 01:49 PM


All times are GMT +6. The time now is 02:28 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2020, vBulletin Solutions, Inc.