Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 02-29-2012, 10:49 AM   #1
shizz
 
shizz's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Feb 2012
Location: karachi pakistan
Posts: 21
shizz will become famous soon enough
Default touba or astaghfar

حدیث ''استغفار'' کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش چاہنا اور چونکہ'' استغفار'' کے ضمن میں جس طرح ''توبہ ''بھی آجاتی ہے اسی طرح کبھی ''توبہ ''استغفار کے ضمن میں نہیں بھی آتی اس لئے باب کا عنوان قائم کرتے ہوئے بطور خاص والتوبۃ کا ذکر کیا گیا ہے یا پھر والتوبہ کو الگ سے اسلئے ذکر کیا گیا ہے کہ استغفار تو زبان سے متعلق ہے کہ بندہ اپنی زبان کے ذریعہ خدا سے بخشش ومغفرت مانگتا ہے جب کہ توبہ کا تعلق دل... سے ہے کیونکہ کسی گناہ پر ندامت وشرمندگی اور پھر خدا کی طرف رجوع اور آئندہ اس گناہ میں ملوث نہ ہونے کا عہد دل ہی سے ہوتا ہے۔ ''توبہ'' کے معنی ہیں رجوع کرنا گناہوں سے طاعت کی طرف ، غفلت سے ذکر کی طرف اور غیبت سے حضور کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کی بخشش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کے گناہوں کو دنیا میں بھی ڈھانکے بایں طور کہ کسی کو اس کے گناہ کا علم نہ ہونے دے اور آخرت میں اس کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے بایں طور کہ اس کو ان گناہوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی سے پوچھا گیا کہ ''توبہ'' کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ گناہ کو فراموش کردینا یعنی توبہ کرنے کے بعد گناہ کی لذت کا احساس بھی دل سے اس طرح ختم ہوجائے گویا وہ جانتا ہی نہیں کہ گناہ کیا ہوتا ہے!!۔ اور سہیل تستری سے پوچھا گیا کہ حضرت! توبہ کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم گناہوں کو فراموش نہ کرو یعنی گناہ کو بھول مت جاؤ تاکہ عذاب الٰہی کے خوف سے آئندہ کسی گناہ کی جرات نہ ہو۔ اللہ تعایٰ کے اس حکم توبوا الی اللہ جمیعا ۔ تم سب اللہ کی طرف رجوع کرو۔ کے مطابق استغفار یعنی طلب بخشش ومغفرت اور توبہ کرنا ہربندہ پرواجب ہے کیونکہ کوئی بندہ بحسب اپنے حال ومرتبہ کے گناہ یا بھول چوک سے خالی نہیں ہے لہٰذا ہر شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوتا رہے کواہ وہ گناہ قصدا کئے ہوں یا خطاء وسہوا سرزد ہوئے ہوں اور گناہوں کی نحوست کی وجہ سے طاعت کی توفیق سے محروم نہ رہے نیز گناہوں پر اصرار کی ظلمت دل کو پوری طرح گھیر کر خدا نخواستہ کفرودوزخ تک نہ پہنچادے۔ تو بہ کے صحیح اور قبول ہونے کے لئے چار باتیں ضروری ہیں اور شرط کے درجہ میں ہیں: ایک تو یہ کہ محض خدا کے عذاب کے خوف سے اور اس کے حکم کی تعظیم کے پیش نظر ہی توبہ کی جائے، درمیان میں توبہ کی کوئی اور غرض نہ ہومثلاً لوگوں کی تعریف و مدح کا حصول اور ضعف وفقر کی وجہ، توبہ کی غرض میں داخل نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ گزشتہ گناہوں پر واقعی شرمندگی وندامت ہو۔ تیسرے یہ کہ آئندہ ہر ظاہری وباطنی گناہ سے اجتناب کرے۔ اور چوتھے یہ کہ پختہ عہد اور عزم بالجز کرے کہ آئندہ ہر گز کوئی گناہ نہیں کروں گا۔ تو بہ کی کیفیت اور اثر آئندہ گناہ کرنے کے عزم کا صحیح ہونا یہ ہے کہ توبہ کرنے والا اپنے بلوغ کی ابتداء سے توبہ کرنے کے وقت تک پورے عرصہ کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ اس سے کیا کیا گناہ سرزد ہوئے ہیں تاکہ ان میں سے ہر ایک گناہ کا تدارک کرے چنانچہ اگر اس عرصہ میں وہ ، نماز روزہ، حج ، زکوۃ اور دیگر فرائض ترک ہوئے ہوں تو ان کی قضاء کرے اور اپنے اوقات کو نفل یا فرض کفایہ عبادتوں میں مصروف رکھ کر ان فرائض کو قضا کرنے میں سستی نہ رکے۔ اسی طرح اس عرصہ میں اگر ممنوع حرام چیزوں کا ارتکاب کی اہے مثلا شراب پی ہے یا اور کوئی ممنوع وقبیح فعل کیا ہے۔ تو خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ان سے توبہ واستغفار کرے اور اس کے ساتھ ساتھ خدا کے نام پر غرباء مساکین میں اپنا مال خرچ کرے اور صدقہ وخیرات کرتا رہے تاکہ اس کی توبہ باب قبولیت تک پہنچے اور حق تعالیٰ کی طرف سے اسے بخشش ومغفرت سے نوازا جائے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے فضل پر یقین رکھے کہ انشاء اللہ توبہ قبول ہوگی اور مغفرت کی جائے گی، چنانچہ خود حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہوالذی یقبل اتوبۃ عن عبادہ ویعفو عن السیأات ۔ وہ ایسا رحیم وکریم ہے کہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خطاؤ سے درگزر کرتا ہے۔ یہ تو اس توبہ کی بات تھی جو ان گناہوں سے کی جائے جو محض اللہ تعالیٰ کے گناہ ہوں یعنی جن کا تعلق صرف حق اللہ سے ہو اور اگر اپنے اوپر وہ گناہ ہوں جن کا تعلق حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کی تلفی یا ان کے نقصان سے ہو تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ سے بھی اپنی بخشش ومغفرت چاہے کیونکہ اس کی نافرمانی کی اور ان بندوں سے بھی ان کا تدارک کرے جن کی حق تلفی ہوئی ہے۔ چنانچہ اگر حق تلفی کا تعلق مال سے ہو تو یا صاحب حق کو وہ مال ادا کرے یا اس سے معاف کرائے اور اگر اس کا تعلق مال سے نہ ہو جیسے غیبت یا اور کوئی ذہنی و جسمانی تکلیف جو اسے پہنچی ہو تو اس سے معافی چاہے۔ اگر حق تلفی کا تعلق کسی ایسی کوتاہی یا قصور سے ہو کہ اگرمعاف کراتے وقت اس کا تذکرہ کسی فتنہ وفساد کا سبب بنتا ہو تو ایسی صورت میں اس قصور کا ذکر کئے بغیر اس شخص سے مطلقاً قصور معاف کرائے مثلا اس سے یوں کہے کہ مجھ سے جو بھی قصور ہو گیا ہو اسے معاف کردیجئے اور اگر اس طرح معاف کرانے میں بھی فتنہ وفساد کا خوف ہو تو پھر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرے ۔ اس کی بارگاہ میں تضرع وزاری کرے، اچھے کام کرے اور صدقہ وخیرات کرتا رہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو اور اس شخص کو جس کا قصور ہوا ہے آخرت میں اپنے فضل وکرم کے تحت اپنے پاس سے اجر دے کر اسے راضی کرائے، اگر صاحب حق مرچکا ہو تو اس کے وارث اس کے قائم مقام ہیں اس لئے مردہ کا حق ان سے معاف کرائے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے نیز مردہ کی طرف سے بھی صدقہ خیرات کرے۔ ایک مومن مسلمان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ اگر اس سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے توبہ کرنے میں بالکل سستی اور تاخیر نہ کرے نیز نفس کے مکر اور شیطان کے وسوسہ میں مبتلا ہوکر یہ نہ سوچے کہ میں توبہ پر قائم تو رہ سکوں گا نہیں اس لئے توبہ کیسے کرو کیونکہ جب کوئی بندہ توبہ کرتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ بکش دیئے جاتے ہیں اس لئے اگر بتقاضائے بشریت توبہ کرنے کے بعد پھر گناہ سرزد نہ ہوجائے تو پھر توبہ کرے چاہے دن میں کئی مرتبہ ایسا ہو بشرطیکہ توبہ کے وقت اس کے دل میں یہ خیال نہ ہو کہ میں پھر گناہ بھی کروں گا اورتوبہ بھی کرلوں گا بلکہ توبہ کرتے وقت یہی احساس رہے کہ شاید پھر گناہ رکنے سے پہلے مرجاؤں اور یہ توبہ میری آخری توبہ ثابت ہو۔ جب کوئی شخص توبہ کرنا چاہے تو پہلے نہا دھو کر صاف کپڑے پہنے اور دو رکعت نماز حضور قلب کے ساتھ پڑھے اور سجدہ میں گر کر بہت ہی زیادہ تضرع وزاری کے ساتھ اپنے نفس کو ملامت کرے اور اپنے گزشتہ گناہوں کو یاد کرکے عذاب الٰہی کے خوف سے اپنے قلب کو لرزاں وترساں کرے اور شرمندگی وندامت کے پورے احساس کے ساتھ توبہ واستغفار کرے
__________________
http://www.islamghar.blogspot.com/
shizz is offline   Reply With Quote
Old 03-12-2012, 07:57 AM   #2
Rania
 
Rania's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Jan 2011
Posts: 12,658
Rania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond reputeRania has a reputation beyond repute
Default Re: touba or astaghfar

JAZAK ALLAH
Rania is offline   Reply With Quote
Old 03-12-2012, 09:13 AM   #3
IRFAN MAHER
Designer
 
IRFAN MAHER's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Mar 2012
Location: !!~♥~!!چاند نگر!!~♥~!!
Posts: 1,922
IRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant futureIRFAN MAHER has a brilliant future
Default Re: touba or astaghfar

JazakAllah
__________________
IRFAN MAHER is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
astaghfar, touba


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump


All times are GMT +6. The time now is 02:15 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2018, vBulletin Solutions, Inc.