Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > General Forum > News and Current Affairs > Urdu Column

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 06-25-2013, 11:55 AM   #1
farsun

Users Flag!
 
Join Date: Jul 2011
Posts: 6
farsun is on a distinguished road
Default غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے


چاروں جانب خوشی کے شادیانے بج رہے تھے ۔ اخباری نمائندے اپنے کیمروں کے ساتھ ویران کابل میں نیٹو افواج کے ساتھ داخل ہو رہے تھے۔ دنیا کے تمام ممالک کے حکمرانوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے چالیس سے زیادہ عالمی طاقتوں کو ایک نہتے، کمزور اور بے سروسامان ملک پر دہشت گردی کا لائسنس دیا تھا اور آج اس لائسنس کے تحت ہونے والی دہشت گردی کی فتح کا دن تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا اور میرے ملک کے ٹیکنالوجی اور طاقت سے مرعوب ہونے والے دانشور طالبان کی شکست پر جس لذت بھرے لہجے میں تبصرے کرتے تھے اور انھیں فرسودہ، دقیانوس، کم عقل، ناسمجھ اور نہ عاقبت اندیش ثابت کرنے میں مگن تھے وہ دیدنی تھا۔ ایسے میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو دانا، عقل مند، ملک و قوم کا خیر خوا اور وقت کی نزاکت کو سمجھ کر امریکہ کے سامنے سربسجود ہو کر پاکستانی قوم کو بچانے والا بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ بڑے سے بڑا سیاسی لیڈر اور عظیم تبصرہ نگار بھی یہی کہتااگر ہم ڈٹ جاتے تو ہمارا تورا بورا بنا دیا جاتا۔ کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہونے کو ایسے پیش کیا جا رہا تھا جسے امریکی جن تھے جنھیں دیکھتے ہی سب خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلے۔ اس دوران ایک پچیس سالہ نوجوان کی آواز گونجی :طالبان کو شکست نہیں ہو سکتی۔ ہم نے شمالی علاقوں کو حکمت عملی کے تحت چھوڑا ہے تا کہ ہم اپنی طاقت کو جنوبی علاقوں..... غزنی، قندھار، ہلمند، ارزگان اور زابل میں جمع کریں اور موت تک اس جنگ کو جاری رکھیں۔ ہمیں اسامہ بن لادن کو اپنی سرزمین پر مہمان رکھنے پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ اس نے افغانستان کو کمیونسٹ روس سے آزاد کرانے میں ہمارے ساتھ خون بہایا ہے۔
یہ آواز تھی ملا عمر کے ذاتی سیکرٹری طیب آغا کی۔ یہ وہی شخص ہے جو آج بارہ سال بعد قطر کے شہر دوحہ میں عزت و توقیر کے ساتھ میز پر ایک جانب بیٹھا ایک شکست خوردہ عالمی طاقت اور اس کے حواریوں سے مزاکرات کر رہا ہو گا، وہ طاقت جس کے خوف سے میرے ملک کے عظیم رہنمائوں کے دل آج بھی کانپ اٹھتے ہیں۔ طیب آغا جس کا بچپن اور جوانی کوئٹہ کی گلیوں میں بسر ہوئی، ابھی تین سال کا تھا کہ اس کے ملک پر کمیونسٹ روس کی افواج چڑھ دوڑیں۔ ثور انقلاب کی کمیونسٹ سیاسی پارٹیوںپرچم اورخلقکے افغانی دھڑے ان کے ہمرکاب تھے۔ کوئٹہ میں وہ ایک مہاجر بچے کی حیثیت سے آیا کیونکہ اس کا والد ملا سدوزئی اپنے ملک کے دفاع کی جنگ میں مصروف تھا۔ کوئٹہ کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم اس نوجوان نے کمپیوٹر کلاسوں اور انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں یہ نوجوان عربی، انگریزی، اردو، پشتو اور فارسی میں اس قدر ماہر ہو چکا تھا کہ اس پر شک ہونے لگتا کہ کہیں یہ اسکی مادری زبانیں تو نہیں ہیں۔ اسی عالم شباب میں 1994 کی گرمیوں میں اس کے والد کے شاگرد ملا محمد عمر نے افغانستان میں کرپشن، بھتہ خوری، خونریزی اور سمگلنگ سے کمائی گئی رقم سے ہونے والی قتل و غارت اور جنگ و جدل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو جو پہلے 53 نوجوان ملا عمر کے ساتھ تھے ان میں اٹھارہ سالہ طیب آغا بھی شامل تھا۔ طالبان سے پہلے کا افغانستان بھی سب کو یاد ہے جب وہاں خون اور دہشت کے سائے تھے۔ چمن سے قندھار تک پچاس کے قریب بھتہ خوری کی چیک پوسٹیں تھیں جو ہر گزرنے والے سے مجاہدین کے نام پر تاوان وصول کرتی تھیں۔ طالبان کے بعد کا افغانستان بھی لوگوں کو یاد ہے جب کوئٹہ، پشین اور چمن جیسے مقامات سے لوگ اپنے مقدمات ان کے پاس فیصلوں کے لیے لے کر جاتے تھے کہ انصاف ملے۔ ایک ایسا افغانستان جس میں صدیوں پرانی افیون کی کاشت صرف ایک حکم نامے پر ختم ہو گئی۔ اس دور کے افغانستان کی تفصیل دنیا بھر کے میڈیا پر موجود ہے لیکن امن و آشتی سے بھرپور یہ پانچ سال بہت سے لوگوں کے لیے جہاں حیرت کا باعث ہیں وہاں ان کے دلوں میں بھرے ازلی و ابدی بغض کے بھی عکاس ہیں جو چند چھوٹے چھوٹے واقعات کی بنیاد پر افغانستان میں تباہی و بربادی اور قتل و غارت کے بعد امن و امان کے قیام کو کوئی کارنامہ قرار ہی نہیں دیتے۔

لیکن اصل معاملہ تو گیارہ ستمبر کے بعد کا ہے۔ طالبان کے پاس بھی وہی دو راستے تھے جو پرویز مشرف اور اسکی حکومت کے پاس تھے۔ افغانستان کا کوئی شخص براہ راست گیارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث نہ تھا اور پاکستان کے کسی شہری کا نام بھی اس فہرست میں شامل نہ تھا۔ دونوں پر عالمی برادری کی مسلمہ دہشت گردی اور غنڈہ گردی مسلط کی جا رہی تھی۔ ایک جانب غیرت سے زندہ رہنے کا فیصلہ کرنے والے وہ لوگ تھے جو اللہ پر توکل رکھتے تھے اور دوسری جانب مادی وسائل کے غلام اور ٹیکنالوجی کے پرستار۔ ایک ہماری سرحد کے اْس پار رہتے تھے اور دوسرے میرے ملک کے حکمران۔ اقبال نے اس تقسیم کو کس خوبصورتی سے واضح کیا ہے:
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

لیکن میرے ملک کے حکمرانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ اللہ کی نصرت اور مدد تو ہر ٹیکنالوجی سے بالاتر ہے۔ یہ جنگ بھی عجیب تھی۔ دنیا کی تمام طاقتور قوتیں ایک جانب، کوئی پڑوسی طالبان کے ساتھ نہ تھا۔ پاکستان سے ستاون ہزار مرتبہ امریکی جہاز اڑے اور ان نہتوں پر بم برسائے۔ ایران ساتھ نہ تاجکستان بلکہ تاجکستان کی سرزمین سے تو امریکی فوج داخل ہوئی۔ امریکہ کے ساتھی شمالی اتحاد کو ہر طرح کی امداد ایران نے فراہم کی۔ ایسے میں یہ مرد کوہستانی اور بندگانِ صحرائی گیارہ سال تک لڑے۔ ہم نے یہ گیارہ سال گزارے اور حامد کرزئی نے بھی۔ دونوں نے اپنے آقا امریکہ کو خوش کر کے اور اس کی آشیر باد کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ کر گزارے ۔ ہم نے روز لاشیں اٹھائیں۔ مارنے والے بھی کلمہ گو اور مرنے والے بھی کلمہ گو۔ طالبان کو کم از کم ایک اطمینان اور یقین ضرور تھا کہ وہ جس سے جہاد کرنے نکلے ہیں وہ اللہ کا منکر ہے۔ دنیا کی ہر اخلاقیات کے حساب سے وہ ان کے ملک پر قابض ہے۔ ان کی جنگ اسلام کے حوالے سے بھی حق پر تھی اور قوم پرستی کے حوالے سے بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاتھ میں ریمنڈ ڈیوس آتا ہے اور ہم اپنی انا اور خودداری بیچ کھاتے ہیں۔ ان کے ہاتھ ایک امریکی سارجنٹ آیا تھا اور آج اس کے بدلے وہ گوانتاناموبے سے اپنے ساتھ چھڑوا رہے ہیں ۔ کس قدر منٹ سماجت سے ان سے کہا جا رہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کا پرچم ذرا کم نمایاں کر لیں، اس لیے کہ ہمارے پالتو حامد کرزئی کو تکلیف ہوتی ہے۔ کوئٹہ کی گلیوں میں کمپیوٹر سیکھنے والا شخص طیب آغا جس نے قرآن و حدیث اسی شہر کے مدرسے میں پڑھی امریکی وزیر خارجہ کے مقابل بیٹھے گا۔ اس شخص کی آنکھوں میں چمک دیکھتا ہوں تو طالبان کی قید میں رہ کر کر مسلمان ہونے والی ایون رڈلی کی بات یاد آتی ہے۔

اس نے قید سے رہائی کے فورا بعد کہا تھا:یہ لوگ مجسم انسانیت تھے۔ یہ حیران کن لوگ تھے، کالی داڑھیوں اور زمرد جیسی سبز رنگ آنکھوں والے جو خوبصورت سے خوبصورت یورپی عورت کو پگھلا کر رکھ دیں۔ حیرت ہے کہ ان کی آنکھوں میں شرم اور حیاء اس قدر تھی کہہ میرے سامنے کسی مجرم کی طرح جھکی رہتیں۔ بموں کی یلغار میں نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے۔ خود بھوکے رہتے، مجھے کھلاتے۔ یہ کیا لوگ ہیں، یہ تو اس جہاں کے لوگ ہیں ہی نہیں۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ ہم ان کی نصرت کے لیے فرشتے نازل کرتے ہیں۔ گیارہ سال بعد اس مملکت خداداد پاکستان میں بیٹھا سوچ رہا ہوں، تورابورا کس کا بنا، ہمارا یا طالبان کا؟ غیرت سے کون زندہ رہا؟ عزت سے کون سرفراز ہوا؟ یہ سوال اب تاریخ کا نہیں بلکہ آج کا ہے۔ اللہ کی نصرت ثابت کرنے کے لیے اب کسی کو عمر ابن خطاب کے زمانے کی جنگ قادسیہ میں ایران کی شکست دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے کھول کر اپنی نشانی دکھا دی۔ اب کوئی ایمان نہ لائے تو اس کے نصیب۔


اوریا مقبول جان
farsun is offline   Reply With Quote
Old 06-29-2013, 05:58 PM   #2
Night Jasmine
săиiă
 
Night Jasmine's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Dec 2009
Location: ♥ *♥ Urdu planet's orchard♥* ♥
Posts: 22,839
Night Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond reputeNight Jasmine has a reputation beyond repute
Default Re: غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے

hmmm good
__________________

Night Jasmine is offline   Reply With Quote
Old 06-30-2013, 12:53 AM   #3
Cute Fairy
` ғarιнa
 
Cute Fairy's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Oct 2012
Location: ~♥~fαитαѕу~♥~
Posts: 32,106
Cute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond reputeCute Fairy has a reputation beyond repute
Default Re: غیرت تو اللہ پر ایمان سے پیدا ہوتی ہے

thank for nice sharing
__________________


Cute Fairy is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
اللہ, ایمان, تو, سے, غیرت, پر, پیدا, ہوتی, ہے


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
زیارت کے منکر...لاؤڈ اسپیکر jalismirza News and Current Affairs 0 06-18-2013 07:23 PM
سینگی لگوانا یا گندہ خون نکلوانا Black Pearl Hadees o Sunnat 4 10-20-2012 05:19 PM
~*~* نگوڑ ماری~*~* Rania Short Urdu Stories/Afsaany 1 06-11-2012 09:04 PM
وسيلہ shizz Islamic Maloomat 0 03-18-2012 10:08 AM
<><><> عشق حقیقی <><><> Rania Urdu Adab 5 01-14-2012 06:05 PM


All times are GMT +6. The time now is 08:05 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2019, vBulletin Solutions, Inc.