Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

Reply
 
Thread Tools Display Modes
Old 03-23-2018, 11:52 AM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,621
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Maloomat 2

افکارد
مسئلہ رضاعت
اس امر پر امت میں اتفاق ہے کہ ایک لڑکے یا لڑکی نے جس عورت کا دْودھ پیا ہو، اس کے لیے وہ عورت ماں کے حکم میں اور اس کا شوہر باپ کے حکم میں ہے، اور تمام وہ رشتے جو حقیقی ماں اور باپ کے تعلق سے حرام ہو جاتے ہیں۔ اس حکم کا ماخذ نبی کریمؐ کا یہ ارشاد ہے کہ یحرم من الرضاع مایحرم من النسب۔ البتہ اس امر میں اختلاف ہے کہ حرمت رضاعت کس قدر دْودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک جتنی مقدار سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ سکتا ہے اتنی ہی مقدار میں اگر بچہ کسی کا دْودھ پی لے تو حْرمت ثابت ہو جاتی ہے۔ مگر امام احمدؒ کے نزدیک تین مرتبہ پینے سے اور امام شافعیؒ کے نزدیک پانچ دفعہ پینے سے یہ حْرمت ثابت ہوتی ہے۔ نیز اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ کس عمر میں پینے سے یہ رشتے حرام ہوتے ہیں۔ اس باب میں فقہا کے اقوال حسبِ ذیل ہیں:
(1) اعتبار صرف اْس زمانے میں دْودھ پینے کا ہے جبکہ بچے کا دْودھ چھڑایا نہ جا چکا ہو اور شیر خوارگی ہی پر اس کے تغذیہ کا انحصار ہو۔ ورنہ دْودھ چھْٹائی کے بعد اگر کسی بچے نے کسی عورت کا دْودھ پی لیا ہو تو اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے اْس نے پانی پی لیا۔ یہ رائے اْم سَلَمَہ اور ابن عباس کی ہے۔ علیؓ سے بھی ایک روایت اس معنی میں آئی ہے۔ زْہرِی، حَسَن بصری ، قَتادہ، عِکرِمہ اور اَوزاعی اسی کے قائل ہیں۔
(2) دوسال کی عمر کے اندر اندر جو دْودھ پیا گیا ہو صرف اسی سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوگی۔ یہ حضرت عمر، ابن مسعود، ابوہریرہ، اور ابنِ عمرؓ کا قول ہے اور فقہا میں سے امام شافعی، امام احمد، امام ابو یوسف، امام محمد، اور سْفیان ثَوری نے اسے قْبول کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ سے بھی ایک قول اسی کی تائید میں منقول ہے۔ امام مالک بھی اسی حد کے قائل ہیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ دو سال سے اگر مہینے دو مہینے زائد عمر بھی ہو تو اس میں دْودھ پینے کا وہی حکم ہے۔
(3) امام ابو حنیفہ اور امام زْفَر کا مشہور قول یہ ہے کہ زمانۂ رضاعت ڈھائی سال ہے اور اس کے اندر پینے سے حرمتِ رضاعت ثابت ہوتی ہے۔
(4) خواہ کسی عمر میں دْودھ پیے، حرمت ثابت ہو جائے گی۔ یعنی اس معاملے میں اصل اعتبار دْودھ کا ہے نہ کہ عمر کا۔ پینے والا اگر بوڑھا بھی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو شیر خوار بچے کا ہے۔ یہی رائے ہے عائشہؓ کی۔ اور علیؓ سے بھی صحیح تر روایت اسی کی تائید میں منقول ہے۔ اور فقہا میں سے عْروَہ بن زبیر، عطا، لَیث بن سعد اور ابن حَزم نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (تفہیم القرآن، سورہ النساء، آیت 23)
*۔۔۔*۔۔۔*
ناجائز تعلقات
اس امر میں اختلاف ہے کہ جس عورت سے باپ کا ناجائز تعلق ہو چکا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے یا نہیں۔ سلف میں سے بعض اس کی حْرمت کے قائل نہیں ہیں، اور بعض اسے بھی حرام قرار دیتے ہیں، بلکہ ان کے نزدیک جس عورت کو باپ نے شہوت سے ہاتھ لگایا ہو وہ بھی بیٹے پر حرام ہے۔ اسی طرح سلف میں اس امر پر بھی اختلاف رہا ہے کہ جس عورت سے بیٹے کا ناجائز تعلق ہو چکا ہو، وہ باپ پر حرام ہے یا نہیں۔ اور جس مرد سے ماں یا بیٹی کا ناجائز تعلق رہا ہو یا بعد میں ہو جائے اس سے نکاح ماں اور بیٹی دونوں کے لیے حرام ہے یا نہیں۔ اس باب میں فقیہانہ بحثیں بہت طویل ہیں، مگر یہ بات بادنیٰ تامّل سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی شخص کے نکاح میں ایسی عورت کا ہونا جس پر اس کا باپ یا اس کا بیٹا بھی نظر رکھتا ہو، یا جس کی ماں یا بیٹی پر بھی اس کی نگاہ ہو، ایک صالح معاشرت کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہو سکتا۔ شریعتِ الٰہی کا مزاج اس معاملے میں اْن قانونی موشگافیوں کو قبول نہیں کرتا جن کی بنا پر نکاح اور غیر نکاح اور قبل نکاح اور بعد نکاح اور لمس اور نظر وغیرہ میں فرق کیا جاتا ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ خاندانی زندگی میں ایک ہی عورت کے ساتھ باپ اور بیٹے کے، یا ایک ہی مرد کے ساتھ ماں اور بیٹی کے شہوانی جذبات کا وابستہ ہونا سخت مفاسد کا موجب ہے اور شریعت اسے ہرگز برداشت نہیں کر سکتی۔ نبیؐ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے کسی عورت کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالی ہو اْس کی ماں اور بیٹی دونوں اْس پر حرام ہیں۔ اور خدا اس شخص کی صْورت دیکھنا پسند نہیں کرتا جو بیک وقت ماں اور بیٹی دونوں کے اعضاء صنفی پر نظر ڈالے۔ ان روایات سے شریعت کا منشا صاف واضح ہو جاتا ہے۔ (تفہیم القرآن، سورہ النساء، آیت 23)
journalist is offline   Reply With Quote
Reply

Bookmarks

Tags
islami, maloomat


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 06-12-2015 01:49 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 06-01-2015 12:40 PM
ISLAMI MALOOMAT 4 journalist Islamic Maloomat 1 05-05-2015 01:25 AM
ISLAMI MALOOMAT 3 journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:32 PM
ISLAMI MALOOMAT 1 journalist Islamic Maloomat 0 05-04-2015 03:30 PM


All times are GMT +6. The time now is 09:37 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2019, vBulletin Solutions, Inc.