Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum  

Go Back   Urdu Planet Forum -Pakistani Urdu Novels and Books| Urdu Poetry | Urdu Courses | Pakistani Recipes Forum > Islam > Islam > Islamic Maloomat

Notices

 
 
Thread Tools Display Modes
Prev Previous Post   Next Post Next
Old 02-11-2019, 08:09 PM   #1
journalist
Moderator

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2011
Posts: 13,575
journalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond reputejournalist has a reputation beyond repute
Default Islami Mako may

شادی کی خودساختہ رسوم کی ابتدا منگنی کی رسم سے ہوجاتی ہے اور بعض نمائش پسند اور فضو ل خرچ لوگ منگنی پر اتنا خرچ کردیتے ہیں کہ اس خرچے سے کئی غریب بچیوں کا نکاح ہوسکتا ہے۔ لیکن آج کل منگنی کی باقاعدہ رسم منائی جاتی ہے جس میں عورتوں اور مردوں کی مخلوط محفل، دعوت طعام، کپڑوں کے جوڑے اور پھر ان چیزوں میں دونوں خاندانوں کا مقابلہ کہ انہوں نے اتنا دیا ہے تو ہم جواب میں یہ یہ کریں گے ۔ نکاح جو صرف سماجی ضرورت نہیں بلکہ شرعی ضرورت اور حکم بھی ہے اس کا آغاز ہی جب نمود ونمائش، احساس برتری اور اللہ کی نافرمانی سے ہوگا تو پھر اگلے معاملات کیسے سیدھے چل سکیں گے؟ اس موقع پر ایک غلطی یہ بھی ہوتی ہے کہ لڑکے کو سونے کی انگوٹھی پہنائی جاتی ہے۔ حالانکہ مرد کو سونا پہننا ہی منع ہے۔ عبداللہ بن عباسؓ راوی ہیں کہ نبیؐ نے ایک مرد کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی توآپ نے اس کے ہاتھ سے وہ انگوٹھی اتاری اور دور پھینک دی۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص آگ کے انگارے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے تو وہ سونے کی انگوٹھی پہن لے۔ یعنی سونے کی کوئی بھی چیز پہننا مرد کے لیے جائز نہیں ہے۔ہمارے ہاں شادی میں مہندی کی رسم، پیلا رنگ استعمال کرنا، مخلوط اجتماعات منعقد کرنا، مایوں اور گانے اور رقص وغیرہ یہ ساری ہندوانہ رسوم ہیں۔ ہم نے جتنی مضبوطی سے ان چیزوں کو تھاما ہوا ہے اتنا ہمیں قرآن وحدیث کو تھامنا چاہیے تھا۔
شادی بیاہ میں لاکھوں کے اخراجات کا رواج چل پڑا ہے جوکہ بالکل بھی ضروری نہیں ہے۔ جو آپ کی حیثیت ہے اس کے مطابق خرچ کریں۔ بلکہ دوسروں کو بھی بتائیں کہ ہماری حیثیت اور اوقات یہ ہے۔ ہم اس قدر ہی خرچ کر سکتے ہیں۔ اس طریقے سے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اسراف اور دکھاوا اپنی انتہا کو ہے۔ انگلستان میں مقیم ایک پاکستانی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میں نے اپنی بچی پر چار ملین پاؤنڈ (70کروڑ) روپے خرچ کیے۔ وہ تو امیر تھے انہوں نے خرچ کردیے لیکن جو غریب ہے وہ کس طرح زیادہ خرچ کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے مثالیں اوپر کی دیکھی جاتی ہیں، نیچے کی کوئی نہیں دیکھتا۔
پھر جب جہیز اتنے اہتمام سے بنایا ہے تو اس کی نمائش بھی ہوتی ہے۔ بسا اوقات اتنے بستر اور جوڑے تیار کرلیے جاتے ہیں جنہیں سالہا سال تک استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ گھر میں رہائش کی تنگی ہوجائے توہوجائے لیکن جدید فرنیچر، برتنوں سے بھری ہوئی الماریاں، بستروں اور جوڑوں سے بھرے ہوئے صندوقوں کے لیے بہرحال گنجائش نکالنی ہی پڑے گی۔ اکثر لوگ جو مکان کی تنگی سے شاکی رہتے ہیں تو اس کی وجہ افراد خانہ میں اضافہ یا مکان کا چھوٹا ہونا نہیں بلکہ اضافی اور دکھاوے کے سامان کی یہ کثرت ہے۔ ان چیزوں کے لیے شیطان انسان کو اُکساتا ہے۔ فرمایا:اور فضول میں مال مت اڑاؤ۔ یقیناًمال کو فضول اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں۔ اور یقیناًشیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکرا ہے۔ (بنی اسرائیل 26۔27)
شادی کی بے جا رسومات کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی عبادات ضائع ہوجاتی ہیں۔ ان کو عبادات بالخصوص نماز کی کہاں فکر ہوتی ہے کیونکہ یہ سارے اللہ کی ناراضگی والے بوجھ ہم نے اپنے اوپر ڈال رکھے ہیں۔ اسی طریقے سے عورتیں اور مرد شادی کے موقع پر ایک دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں حالانکہ اس بارے میں سورۃ الحجرات میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ:اے اہل ایمان! تم میں سے کوئی گروہ دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں (اسی طرح) عورتیں بھی دوسری عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں، ہو سکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ (الحجرات:11)
ہمارے ہاں مہندی کی تقریب میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، برا بھلا کہنا، طنز کرنا رسم بن چکا ہے۔ حالانکہ قرآن تو مرد کو مرد کا اور عورت کو عورت کا مذاق اُڑانے سے بھی منع کرتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ہی الٹا ہے کہ اس رسم میں مرد عورتوں اور عورتیں مردوں کا مذاق اُڑاتی ہیں اور اس میں محرم اور غیر محرم کی تفریق بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ان تمام رسومات سے جان چھڑائی جائے۔ نکاح جو ایک نیک عمل ہے اس کو رسول اللہؐ کے طریقے کے مطابق سرانجام دیا جائے۔ کیونکہ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ نکاح بہت اچھا اور بہت بابرکت ہے جس میں خرچہ کم سے کم ہو۔ ہمارے لیے اصل اسوہ نبی اکرمؐ ہیں، پھر صحابہ کرام اور صحابیاتؓ کی شادیوں کا مطالعہ کیجیے اور کوشش کیجیے کہ اس کے مطابق نکاح کی سنت اداہو جائے ۔
Attached Images
File Type: jpg IMG_20190211_094040.jpg (85.4 KB, 0 views)
journalist is offline   Reply With Quote
 

Bookmarks


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
ISLAMI TALEEMAAT... khalid420 Islamic Maloomat 169 04-24-2016 05:53 PM
ISLAMI MALOOMAT journalist Islamic Maloomat 0 03-06-2016 03:36 PM
sab ko naya islami saal mubarak ho...... b khan Greetings 6 11-11-2013 05:22 PM
HI MY BEST ISLAMI BROTHERS N SISTERS Zulfiqar Ali Mashori Introduction 4 07-25-2011 02:55 PM


All times are GMT +6. The time now is 06:54 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.9
Copyright ©2000 - 2019, vBulletin Solutions, Inc.