Old 02-19-2016, 03:18 PM   #1
bint-e-masroor
♥♫♪♥ uиbязαkαbℓз♥♪♫♥
 
bint-e-masroor's Avatar

Users Flag!
 
Join Date: Nov 2012
Location: ●♥ღ язαmℓάи ღ♥●
Posts: 26,494
Points: 266,233, Level: 73
Points: 266,233, Level: 73 Points: 266,233, Level: 73 Points: 266,233, Level: 73
Activity: 3%
Activity: 3% Activity: 3% Activity: 3%
Thanks: 13,292
Thanked 17,652 Times in 12,983 Posts
bint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond reputebint-e-masroor has a reputation beyond repute

Awards Showcase

New میاں بیوی اور خراٹے

میاں بیوی اور خراٹے
تحریر: حماد احمد (معصوم بچہ)۔
خراٹوں کی سب سے زیادہ شکایات بیگمات کی طرف سے اپنے شوہروں کے لئے ہوتی ہیں۔ در اصل شوہر ایک ایسی مخلوق کا نام ہے ، جو تکیے پر سر رکھنے کے دو منٹ بعد ہی اپنے منہ سے ایسی عجیب و غریب آوازیں برآمد کرتا ہے ، جیسے کوئی ڈبل ڈیکر بس زیادہ لوگوں کے بوجھ کی بدولت عجیب و غریب آوازیں نکالتے ہوئے چلنے پر مجبور ہوتی ہے۔ منہ سے نکلنے والی یہ عجیب و غریب آوازیں در اصل خراٹوں کی ہی ہوتی ہیں۔
ایسے شوہروں کی بیگمات جب ایک جج کی حیثیت سے اپنے شوہروں پر خراٹے مارنے کے جرم کی فرد جرم عائد کرتی ہیں تو حضرات شوہران کرام اس جرم کا صاف صاف انکار کر دیتے ہیں۔ حکمت و بصیرت کا عملی نمونہ بنتے ہوئے بیگمات بھی فورا اپنے شوہروں کا انکار تسلیم کر لیتی ہیں۔ لیکن ابھی شوہر صاحب نے مکمل سکون کا سانس بھی نہیں لیا ہوتا کہ اگلے ہی دن بیگم صاحبہ دوبارہ ایمرجنسی عدالت نافذ کر دیتی ہیں اور اپنے شوہر کو موبائل کیمرے کے ذریعے بنی ہوئی وہ ویڈیو دکھاتی ہیں ، جس میں انہوں نے گزشتہ رات ہی شوہر کے خراٹوں کے خوفناک مناظر محفوظ کئے ہوتے ہیں۔ تب کہیں جا کر شوہر حضرات کو اپنا جرم نہ چاہتے ہوئے بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ سمجھدار شوہر حضرات اپنا جرم ثابت ہونے کے بعد، جج صاحبہ کی طرف سے سزا سنائے جانے سے قبل، از خود ہی باعزت طریقے سے کان پکڑ لیتے ہیں۔ مگر چند شوہر تو جرم ثابت ہونے پر بھی سمارٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ بیگم صاحبہ! آپ کی ویڈیو جھوٹ نہیں ہو سکتی لیکن در اصل میں ان آوازوں میں خراٹے نہیں مارتا بلکہ خواب میں خود کو سائلنسر نکلی ہوئی موٹر سائیکل سمجھ کر ، اپنے منہ سے اس جیسی آوازیں نکالنے کی کوشش کرتا ہوں۔
ایک خراٹوں سے متاثرہ خاتون تو اپنے شوہر کو خراٹوں کے علاج کے لئے ملک کے مشہور و معروف سرجن کے پاس بھی لے گئیں۔ ڈاکٹر اس کے شوہر کو آپریشن تھیٹر کے اندر لے گئے۔ مسلسل دو گھنٹے مریض کو آپریشن تھیٹر میں رکھنے کے بعد جب ڈاکٹر صاحب تھیٹر سے باہر نکلے تو انتہائی افسردگی سے بولے کہ محترمہ! ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم جو کچھ کر سکتے تھے، ہم نے کیا۔ ہم نے نہ صرف مریض کی اینجیو پلاسٹی کی بلکہ ساتھ ہی ساتھ لیزر سرجری بھی کر ڈالی۔ ایک طرف ہم نے اس کے دل کا ایک والو تبدیل کیا تو دوسری طرف ایک سٹنٹ بھی ڈال دیا۔ لیکن افسوس کہ تمہارا شوہر اب بھی کسی برفانی سنڈے کی طرح ہی خراٹے مارتا ہے۔
خواتین تو اپنے شوہروں کے خراٹوں کی اس قدر عادی ہو جاتی ہیں کہ اگر شوہروں کے خراٹوں کی آواز آنا بند ہو جائے تو اس کے ناک کے قریب اپنی انگلی لے جا کر چیک کرتی ہیں کہ اندر سے ہوا بھی برآمد ہو رہی ہے یا نہیں۔ دیگر الفاظ میں وہ یہ چیک کر رہی ہوتی ہیں کہ کیا موصوف ابھی سانس لے رہے ہیں یا پھر وراثت کی صورت میں میرے مالی لحاظ سے مضبوط ہونے کا وقت آگیا ہے؟۔
بہت سی بیگمات اپنے شوہروں کے خراٹوں کے حوالے سے مجبورا صبر کر لیتی ہیں ، مگر شک و شبہ ان کے دل سے مکمل طور پر کبھی بھی نہیں نکل پاتا۔ ایسی خواتین انتہائی غور سے اپنے میاں کے خراٹے سنتی ہیں کہ کہیں میاں صاحب اپنے خراٹوں کے اندر بھی کوڈ ورڈز میں کسی اور خاتون کا نام تو نہیں لے رہے؟۔
آج کل تو ضرورت رشتہ کے اشتہار بھی کچھ اس طرح سے آنے لگے ہیں کہ ہماری خوب صورت و خوب سیرت بچی کے لئے انتہائی نیک اور پرہیز گار لڑکے کا رشتہ درکار ہے۔ لڑکا اس قدر پرہیزگار ہو کہ خراٹے مارنے سے بھی پرہیز کرتا ہو۔ ایسے اشتہارات دینے والے شاید یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دو طرح کے مرد دنیا میں مشکل ہی ملتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے گندی اور بدبودار جرابیں زیب تن نہ کر رکھی ہوں اور دوسرے وہ جن کے خراٹوں کی گونج بہت زیادہ نہ ہو۔
عمومی طور پر ناؤ ہی ندیا میں ڈوبتی ہے لیکن صوفی غلام تبسم مرحوم نے اپنے کتابچہ جھولنے میں ناؤ میں ندیا ڈوب چلی کی خبر بھی سنائی تھی۔ ناؤ میں ندی ڈوبنے والے واقعے کی ہی طرح ، کبھی کبھار مرد حضرات بھی اپنی بیگم کے خراٹوں سے متاثر ہوتے نظر آتے ہیں۔ مگر دہشت گردی کے ایسے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آتے ہیں۔ بیگم کے خراٹوں کے حوالے سے شکوہ کرتے ہوئے ایسے ہی ایک میاں کی ترجمانی محترم سلمان گیلانی صاحب نے اپنے اشعار میں کچھ یوں کی ہے۔
کمرے میں تھی خراٹوں کی کُھڑ کُھڑ متواتر
ناسیں تیری بجتی رہیں پُھڑ پُھڑ متواتر
سوتے میں بھی تکتی رہی لڑنے کے تو سپنے
تھی نیند کی حالت میں بھی ُبڑ بُڑ متواتر
__________________

To view links or images in signatures your post count must be 5 or greater. You currently have 0 posts.
bint-e-masroor is offline   Reply With Quote
The Following User Says Thank You to bint-e-masroor For This Useful Post:
abuhoraira khalil (02-20-2016)
Reply

Bookmarks

Tags
اور, بیوی, خراٹے, میاں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 

(View-All Members who have read this thread : 5
abuhoraira khalil, bint-e-masroor, journalist, malikaizaz, Wasi janjua
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off

Forum Jump

Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
دن اور آج کا دن پھر کبھی میں نے ایسی شرارت نہ& FM Rao Urdu Adab 1 09-23-2014 03:58 PM
بیوی سے محبت کرنے والا شوہر . FM Rao Urdu Adab 1 09-22-2014 04:42 PM
سورة المائدة کی تفسیر b khan Tafseer AL-Quran 7 02-01-2014 06:40 PM
Jindrri....Part 1 ****جندڑی Saboo Urdu Adab 10 11-19-2013 12:08 AM
Apne Darwaze Ki Chokhat Tabdeel Kar Dain ... Rania Sahih Bukhari 3 09-12-2012 07:55 AM


1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 83 84 85 86 87 88 89 90 91 92 93 94 95 96 97 98 99 100 101 102 103 104 105 106 107 108 109 110 111 112 113 114 115 116 117 118 119 120 121 122 123 124 125 126 127 128 129 130 131 132 133 134 135 136 137 138 139 140 141 142 143 144 145 146 147 148 149 150 151 152 153 154 155 156 157 158 159 160 161 162 163 164 165 166 167 168 169 170 171 172 173 174 175 176 177 178 179 180 181 182 183 184 185 186 187 188 189 190 191 192 193 194 195 196 197 198 199 200 201 202 203